ہومپاکستانوزیراعظم کی ملکی ضروریات متاثر کئے بغیر اشیائے خورونوش خلیجی ممالک کو...

وزیراعظم کی ملکی ضروریات متاثر کئے بغیر اشیائے خورونوش خلیجی ممالک کو فوری فراہم کرنے کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی غذائی ضروریات متاثر کئے بغیر وافر مقدار میں موجود اشیائے خورونوش خلیجی ممالک کو فوری برآمد کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے، ملکی غذائی ضروریات کیلئے اشیا خورونوش کی طلب و رسد کی مکمل نگرانی کی جائے، حکومتی اداروں کی سطح پر فیصلہ سازی میں تاخیر ناقابل قبول ہے، مرتکب افراد کی جوابدہی یقینی بنائی جائے گی، پاکستانی ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشنز میں اضافے کیلئے جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے۔

بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں خلیجی ریاستوں کو اشیائے خورونوش کی فراہمی اور پاکستانی بندرگاہوں و میری ٹائم آپریشنز کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر بحری امور چوہدری جنید انور، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلی سرکاری نے شرکت کی۔

اجلاس کو خلیجی ممالک کو اشیائے ضروریہ کی برآمدات کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ خلیجی ممالک کیساتھ برآمدات کے فروغ کیلئے بنائی گئی خصوصی کمیٹی نے 40 فوڈ آئٹمز کی منظوری دی ہے، جن میں چاول، خوردنی تیل، چینی، گوشت، پولٹری، خشک دودھ، ڈیری مصنوعات پھل، سبزیاں وغیرہ شامل ہیں، سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی برآمد کے حوالے سے کوئی اضافی ادائیگی نہیں کی جائیگی، اشیائے خورونوش کی برآمدات کے حوالے سے ہوائی اور بحری اوپن روٹس کو استعمال کیا جائے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ خلیجی ممالک کیساتھ بزنس ٹو بزنس اجلاس اور ویبینارز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ کراچی اور بن قاسم کی بندرگاہیں عید الفطر کی چھٹیوں کے دوران بھی بھرپور فعال رہیں ،ٹرانس شپمنٹ کی صلاحیت میں اضافے کیلئے آف-ڈاک ٹرمینلز پر بھی ٹرانس شپمنٹ ہینڈلنگ کی اجازت دی گئی ہے جس کیلئے کسٹمز قوانین میں ضروری ترامیم کر دی گئیں۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ بندرگاہوں پر نقل و حمل کے حوالے سے نرخ 60فیصد تک کم، ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن ڈیسک فعال کر دیئے گئے ہیں، خام تیل لانے والے بحری جہازوں کو بندرگاہوں پر ترجیحی بنیادوں پر لنگر انداز کرایا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے خلیجی ممالک کو اشیائے خورونوش کی فراہمی کے حولے یسے بنائی گئی حکمت عملی اور اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس حوالے سے کام کرنیوالے متعلقہ محکموں اور افسران کی کارکردگی کو سراہا۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ خلیجی ممالک کو درکار اشیائے خورونوش کی فراہمی اور غذائی تحفظ کے حوالے سے سے تمام متعلقہ محکمے خلیجی ممالک سے قریبی رابطے میں رہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں جبکہ عالمی سپلائی لائن متاثر ہے، خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ ملکی غذائی ضروریات کو متاثر کئے بغیر ملک میں وافر مقدار میں موجود اشیا خورونوش کی خلیجی ممالک میں برآمد کیلئے تیزی سے کام کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی غذائی ضروریات کیلئے اشیا خورونوش کی طلب و رسد کی مکمل نگرانی کی جائے، حکومتی اداروں کی سطح پر فیصلہ سازی میں کسی قسم کی تاخیر کا قابل قبول نہیں، تاخیر کے مرتکب افراد کی جواب دہی یقینی بنائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی، گوادر اور دیگر اہم پاکستانی بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشنز میں اضافے کیلئے جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں