بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اور دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی نے افغانستان میں طالبان رجیم کا سفاک چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا ہے۔
افغان طالبان رجیم دہشتگردی کی حمایت اور انتہا پسندانہ پالیسیوں کے سبب دنیا بھر کیلئے ناقابل قبول ہو چکی ہے، طالبان رجیم کے جابرانہ قوانین افغان شہریوں کے بنیادی حقوق اور مستقبل کیلئے سنگین خطرہ بن گئے ہیں۔
ایک امریکی تھنک ٹینک فارن پالیسی ان فوکس کے مطابق طالبان رجیم کے سخت گیر نظام اور عالمی سطح پر تنہائی نے افغان ریاست کی قانونی حیثیت اور شہری حقوق کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، افغان طالبان کے القاعدہ اور فتنہ الخوارج جیسے دہشتگرد گروہوں کیساتھ تعلقات برقرار ہیں، یہ ان کیخلاف کارروائی سے بھی گریزاں ہیں، افغان طالبان رجیم کا خودمختاری کا دعویٰ محض ایک ڈھونگ ہے اور عالمی سطح پر ایک ملک کے سوا کسی نے اسے باقاعدہ تسلیم نہیں کیا۔
امریکی تھنک ٹینک کے مطابق بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت اور پہچان نہ ہونے کی وجہ سے طالبان رجیم افغانستان کی نمائندگی کیلئے مکمل قانونی درجہ نہیں رکھتی۔
ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کی شدت پسند اور غیر جمہوری پالیسیوں کے باعث افغانستان عالمی سطح پر تنہا اور اقتصادی و انسانی بحران کا شکار ہے، افغان طالبان کی القاعدہ اور فتنہ الخوارج جیسے گروہوں کی پشت پناہی محض ایک داخلی معاملہ نہیں بلکہ پورے خطے کیلئے سکیورٹی رسک ہے۔


