ہومبیلٹ اینڈ روڈ+سی پیکمائیکروبیل اختراع سے چین اور پاکستان کے درمیان زرعی تعاون کا فروغ

مائیکروبیل اختراع سے چین اور پاکستان کے درمیان زرعی تعاون کا فروغ

جینان (شِنہوا) چین کے صوبے شان ڈونگ میں عملی مائیکرو بائیولوجی پر کام کرنے والی پاکستانی محقق روبینہ مشتاق نے شِنہوا کو ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ چین نے دنیا کے کل اناج کا ایک چوتھائی پیدا کرتے ہوئے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی آبادی کو صرف 10 فیصد سے بھی کم قابل کاشت زمین پر خوراک فراہم کی ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا میں خوراک اور غذائی سلامتی کے لئے ایک اہم سنگ میل ہے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی 50 سالہ روبینہ جینوم تجزیہ اور ایک نئی بیکٹیریا قسم میں کیروٹینائیڈز بنانے والے جینیاتی نظام کی تحقیق میں مصروف ہیں جس میں ان جینز کی فعال تشریح اور ان کے ضابطہ جاتی طریقہ کار پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔

جولائی 2021 سے اگست 2023 کے درمیان روبینہ نے شان ڈونگ اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز میں وزیٹنگ سکالر کے طور پر کام کیا۔ ستمبر 2025 میں وہ چین کے "ٹیلنٹڈ ینگ سائنٹسٹ پروگرام” کے تحت دوبارہ اسی ادارے میں شامل ہوئیں، جہاں وہ انسٹیٹیوٹ آف کراپ جرم پلازم ریسورسز کی مائیکرو بائیولوجی ٹیم کا حصہ ہیں۔

روبینہ نے بتایا کہ میری تحقیق مائیکروبیل عمل پر مرکوز ہے جو تجارتی لحاظ سے قیمتی مادے پیدا کرتے ہیں۔ یہ منصوبہ اس وقت اپنے اہم مرحلے میں ہے اور اس کی تکمیل میں صرف 6 ماہ باقی ہیں۔

اپنے کام کے ممکنہ اثرات پر بات کرتے ہوئے روبینہ نے کیروٹینائیڈز کی اہمیت پر زور دیا جو غذائی فوائد اور طبی استعمال کے حامل ہیں۔ ان کے مطابق منصوبہ مکمل ہونے کے بعد ان کی ٹیم مخصوص کیروٹینائیڈز کی تیاری کے لئے ایک تکنیکی فریم ورک فراہم کرے گی جو زرعی ترقی اور پائیدار طریقوں میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری تحقیق زرعی ترقی اور پائیدار طریقوں میں حصہ ڈالے گی۔

روبینہ مشتاق شان ڈونگ اکیڈمی آف ایگریکلچر سائنسز کے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔(شِنہوا)

شان ڈونگ کا شمار چین کے بڑے زرعی صوبوں میں ہوتا ہے جو اناج، سمندری خوراک، پھل اور سبزیوں جیسی اپنی متنوع زرعی پیداوار کے لئے مشہور ہے۔ یہاں مضبوط زرعی تحقیقی بنیادیں موجود ہیں۔ روبینہ کی ٹیم نے شان ڈونگ زرعی مائیکروبیل جرم پلازم ریسورس بینک اور ایک معلوماتی ڈیٹا بیس قائم کرنے میں مدد دی ہے جس میں مختلف شعبوں کے لئے 13 ہزار سے زائد مائیکروبیل اقسام محفوظ کی گئی ہیں، جن میں کھاد، جانوروں کی خوراک، کیڑوں کے کنٹرول اور ماحولیاتی انتظام شامل ہیں۔

انسٹیٹیوٹ آف کراپ جرم پلازم ریسورسز، ایس اے اے ایس کے محقق اور ٹیم لیڈر چھن گاؤ نے روبینہ کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے بتایا کہ اپنے پہلے دورے میں انہوں نے مٹی، پودوں اور حیوانی مصنوعات سے 600 سے زائد مفید بیکٹیریا الگ کئے اور ایک نئی قسم دریافت کر کے اس کا نام "ماسیلیا ایس پی ڈاٹ این او وی” رکھا۔ انہوں نے ان بیکٹیریا کی افزائش کے حالات کو بھی بہتر بنایا جس سے صوبے کے مائیکروبیل ریسورس بینک کو نمایاں فائدہ پہنچا۔

چھن گاؤ کے مطابق ڈاکٹر مشتاق ہماری ٹیم کی ایک اہم بین الاقوامی شراکت دار ہیں جو اعلیٰ سائنسی مہارت اور لگن کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ ان کی خدمات نے نہ صرف ہماری تحقیق کو آگے بڑھایا بلکہ چین اور پاکستان کے درمیان زرعی مائیکرو بائیولوجی میں تعاون کو بھی مضبوط کیا۔

روبینہ نے کہا کہ پاکستان چین کی زرعی کامیابیوں سے سیکھنے کا خواہاں ہے۔ کئی پاکستانی جامعات اب چینی اداروں کے ساتھ مل کر جدید زرعی طریقے اپنا رہی ہیں جس سے فصلوں کی پیداوار اور زرعی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

ستمبر 2025 میں جاری کئے گئے "چین-پاکستان مشترکہ مستقبل کے قریبی معاشرے کے قیام کے ایکشن پلان (2025-2029)” میں فصلوں کی کاشت، مویشیوں کی دیکھ بھال، بیماریوں کی روک تھام اور مشین کاری جیسے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔اس میں زرعی تحقیق اور ماہرین کے تبادلے کو بھی فروغ دیا گیا ہے۔

چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت دونوں ممالک نے کئی معاہدوں پر دستخط کئے ہیں جن کے ذریعے پاکستانی زرعی مصنوعات کی چین کو برآمدات ممکن بنائی گئی ہیں اور چینی کمپنیوں کو پاکستان میں زرعی منصوبوں میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی ہے۔

چھن گاؤ کا ماننا ہے کہ مائیکروبیل وسائل کی دریافت، بائیو کنٹرول ایجنٹس کی تیاری اور پائیدار زرعی ٹیکنالوجیوں جیسے شعبوں میں مزید تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ وہ نوجوان سائنسدانوں کی تربیت اور زرعی مائیکرو بائیولوجی کے لئے ایک کثیر قومی پلیٹ فارم کے قیام کی بھی توقع رکھتے ہیں۔

آخر میں روبینہ نے کہا کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت دونوں ممالک کے درمیان خاص طور پر زرعی شعبے میں تعاون پاکستان کے لئے بہت اہم ہے۔ پاکستان جدید کاشتکاری کے طریقے اپنا کر اپنی زرعی پیداوار بڑھا رہا ہے، کسانوں کی غربت کم کر رہا ہے اور دیہی آمدنی میں اضافہ کر رہا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں