ہومتازہ ترینغیر مستحکم دنیا میں کثیر الجہتی کے لئے چین کا عزم مضبوط...

غیر مستحکم دنیا میں کثیر الجہتی کے لئے چین کا عزم مضبوط سہارا ہے، ڈائریکٹر رولینڈ برجر

بوآؤ، چین (شِنہوا) ایک جرمن مشاورتی کمپنی کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ کثیر الجہتی، آزاد تجارت اور سب کی شمولیت کے لئے چین کا عزم مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور بڑھتی ہوئی تحفظ پسندی کی شکار دنیا کو اہم تزویراتی استحکام فراہم کرتا ہے۔

میونخ میں قائم مشاورتی فرم رولینڈ برجر کے گلوبل منیجنگ ڈائریکٹر ڈینس ڈیپوکس نے چین کے جنوبی صوبے ہائی نان میں منگل سے جمعہ تک جاری رہنے والی بوآؤ فورم فار ایشیا کی سالانہ کانفرنس سے قبل شِنہوا کو ایک تحریری انٹرویو میں کہا کہ یہ عزم سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی اور سرمایہ کاری کی خاطر ایک مستحکم اور قابل پیش گوئی ماحول کو یقینی بنانے کے لئے بھی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ محصولات اور عالمی بحرانوں جیسی مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود چین نے حالیہ برسوں میں زبردست لچک کا مظاہرہ کیا ہے جس سے عالمی سپلائی چینز میں بیش قیمت استحکام پیدا ہوا ہے۔

ڈیپوکس نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کے جاری بحران کے درمیان، جس نے توانائی کی عالمی سپلائی کو بری طرح متاثر کیا ہے، ہمارا ماننا ہے کہ چین قابل تجدید توانائی کی طرف اپنی طویل مدتی منتقلی کے ذریعے اس لچک کا مظاہرہ جاری رکھے گا۔

چین کے مشرقی صوبے جیانگشی کے شہر جیو جیانگ کے میان چھوآن جزیرے پر ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی ٹربائنز نظر آرہی ہیں۔(شِنہوا)

چین کی ماحول دوست ترقی کے عزم پر بات کرتے ہوئے ڈیپوکس نے اس بات پر زور دیا کہ یہ صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں بلکہ یہ دیگر صنعتوں کی ایک وسیع رینج کو بھی متاثر اور بااختیار بنا رہا ہے۔

انہوں نے چین کی اعلیٰ مقننہ اور سیاسی مشاورتی اداروں کے اس سال کے "دو اجلاسوں” کی حکومتی کارکردگی رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں ہائپر سکیل انٹیلیجنٹ کمپیوٹنگ کلسٹرز بنانے اور کمپیوٹنگ پاور اور بجلی کے نظاموں کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک نیا مسابقتی فائدہ تخلیق کرے گا جہاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی فطری طور پر ماحول دوست توانائی کی منتقلی سے جڑی ہوئی ہے۔ ڈیٹا سنٹرز کو چلانے کے لئے عالمی سطح پر صف اول کی ماحول دوست توانائی کی اپنی صلاحیت کو بروئے کار لا کر چین اے آئی کمپیوٹنگ کے عمل کی لاگت کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔

ڈیپوکس نے مزید کہا کہ یہ باہمی تعاون نہ صرف عالمی موسمیاتی اہداف کے حصول میں مدد دیتا ہے بلکہ چین کو سستی اور ماحول دوست توانائی سے چلنے والی آئی خدمات کے ساتھ ڈیجیٹل اختراع کی اگلی لہر کی قیادت کرنے کے لئے بھی تیار کرتا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں