بوآؤ، چین (شِنہوا) دی 48 گروپ کے چیئرمین جیک پیری نے کہا ہے کہ چین روبوٹکس اور ماحول دوست توانائی میں عالمی رہنما بن گیا ہے، یہ شعبے الگ تھلگ نہیں بلکہ مستقبل کی معیشت کے بنیادی ستون ہیں۔
چین کے جنوبی صوبے ہائی نان میں منعقدہ بوآؤ فورم فار ایشیا سالانہ کانفرنس کے موقع پر شِنہوا کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں چین کی تکنیکی اور اختراعی ترقی کی رفتار حیرت انگیز رہی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ اعلیٰ معیار کی ترقی اور نئی معیاری پیداواری قوتوں کی چینی حکمت عملی نے مینوفیکچرنگ کو ہدف بنایا ہے، ٹیکنالوجی کے ذریعے ترقی کو فروغ دیا ہے اور چینی مینوفیکچرنگ کو عالمی معیار کی اعلیٰ سطح تک لے جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اعلیٰ ٹیکنالوجی کے شعبے میں دیر سے آنے والے ملک سے لے کر عالمی رہنما ملک کے طور پر ابھرنے تک چین نے حیرت انگیز ترقی کی ہے اور اب عالمی اختراعی منظر نامے کو نئی شکل دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اعلیٰ ٹیکنالوجی میں چین کی ترقی نے دنیا کے سرمایہ کاروں کو راغب کیا ہے جو چین کے طویل المدتی استحکام اور ترقی کی صلاحیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین نے ایک صنعت سے دوسری صنعت تک عالمی معیار کی صلاحیتیں قائم کی ہیں۔ وہ افراد جو نسلوں تک دولت کمانا چاہتے ہیں، ان کے لئے چینی مین لینڈ طویل المدتی سرمایہ کاری کی ایک اہم منزل ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کا کھلا پن ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔اب یہ صرف چینی برانڈز کے عالمی سطح پر جانے تک محدود نہیں بلکہ عالمی برانڈز کو چین میں تیار کرنا اور یہاں سے متعارف کروانا بھی اس کا حصہ ہے۔


