واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی فوجی حملوں کو بتدریج ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں اور دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنے اہداف کے حصول کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ہم اپنے اہداف کے حصول کے بہت قریب ہیں کیونکہ ہم مشرق وسطیٰ میں اپنی عظیم فوجی کوششوں کو ایران کے حوالے سے بتدریج کم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کے بیان کردہ اہداف میں ایران کی میزائل صلاحیتوں کو کمزور کرنا، اس کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو تباہ کرنا، اس کی بحریہ اور فضائیہ کو ختم کرنا، اسے کبھی بھی جوہری صلاحیت کے قریب نہ آنے دینا اور خطے میں امریکی اتحادیوں کا تحفظ شامل ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی نہیں چاہتے۔
وائٹ ہاؤس سے فلوریڈا روانہ ہونے سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم بات چیت کر سکتے ہیں لیکن میں جنگ بندی نہیں چاہتا۔ جب آپ حقیقتاً دوسری طرف کو تباہ کر رہے ہوں تو جنگ بندی نہیں کرتے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ فوجی نقطہ نظر سے وہ ختم ہو چکے ہیں۔ ان کے پاس نہ بحریہ ہے، نہ فضائیہ، نہ کوئی سازوسامان، نہ نگرانی کے وسائل، نہ فضائی دفاع، نہ ریڈار اور ان کی قیادت ہر سطح پر ختم کر دی گئی ہے۔
ادھر ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ایکس پر کہا ہے کہ امریکی حکومت کہتی کچھ ہے، جبکہ حقیقت کچھ اور ہے۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس کے ان دعوؤں پر سوال اٹھایا کہ ایران کی فضائی دفاعی صلاحیت اور بحریہ تباہ ہو چکی ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ایک اہم گزرگاہ ہے، کی حفاظت ان ممالک کو کرنی چاہیے جو اس پر انحصار کرتے ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو امریکہ مدد کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی حفاظت اور نگرانی ان دیگر ممالک کو کرنی ہوگی جو اسے استعمال کرتے ہیں امریکہ نہیں، اگر کہا گیا تو ہم مدد کریں گے لیکن ایران کے خطرے کے خاتمے کے بعد اس کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
اس سے قبل ٹرمپ نے نیٹو کے اتحادیوں کو ان کی ہچکچاہٹ پر بزدل قرار دیا تھا۔
انہوں نے ٹروتھ سوشل پر ایک سابقہ پیغام میں کہا تھا کہ امریکہ کے بغیر نیٹو محض کاغذی شیر ہے، بزدل اور ہم اسے یاد رکھیں گے۔


