ہومانٹرنیشنلامریکہ نے سمندر میں موجود ایرانی تیل کی فروخت کے لئے 30...

امریکہ نے سمندر میں موجود ایرانی تیل کی فروخت کے لئے 30 دن کی مہلت دے دی

نیویارک (شِنہوا) امریکی محکمہ خزانہ نے ایک عمومی لائسنس جاری کیا ہے جس کے تحت سمندر میں موجود ایرانی تیل پر عائد پابندیاں عارضی طور پر 30 دن کے لئے اٹھا لی گئی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی معطلی کے باعث پیدا ہونے والی تیل کی قلت کو دور کرنا ہے۔

محکمہ خزانہ کے آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول کی جانب سے جاری کردہ اس عمومی لائسنس کے بعد بحری جہازوں پر لدے ہوئے ایرانی خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی ہے جو جمعہ تک لوڈ ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ متعلقہ بحری جہازوں کے محفوظ لنگر انداز ہونے، عملے کی صحت و سلامتی کے تحفظ، ہنگامی مرمت، ماحولیاتی تحفظ اور دیگر مختلف خدمات سے متعلق لین دین کی بھی اجازت دی گئی ہے۔

اس عمومی لائسنس کے تحت دی گئی اجازت میں ایرانی خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی امریکہ میں درآمد بھی شامل ہے۔

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ یہ عارضی اور مختصر مدتی اجازت سختی سے صرف اس تیل تک محدود ہے جو پہلے سے ہی راستے میں ہے اور یہ نئی خریداری یا پیداوار کی اجازت نہیں دیتی۔

بیسنٹ نے مزید کہا کہ ایران کو اس سے حاصل ہونے والی کسی بھی آمدنی تک رسائی حاصل کرنے میں مشکل پیش آئے گی اور امریکہ ایران پر اپنا زیادہ سے زیادہ دباؤبرقرار رکھے گا تاکہ وہ بین الاقوامی مالیاتی نظام تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔

واشنگٹن پہلے ہی روس اور وینزویلا کے تیل پر پابندیوں میں نرمی کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے زیرِ اہتمام ہنگامی تیل کے ذخائر کو بھی ہم آہنگی کے ساتھ مارکیٹ میں لایا گیا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں