دارالسلام (شِنہوا) تنزانیہ میں موجود 27 ویں چینی طبی ٹیم نے ملک کے مغربی علاقے روکوا میں 2 روزہ مفت طبی کیمپ لگایا جس میں 700 مقامی باشندوں کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں اور دونوں ممالک کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کو مزید مستحکم کیا گیا۔
تنزانیہ میں چینی سفارت خانے کی نگرانی اور علاقائی حکام کی دعوت پر منعقدہ اس مہم کا مرکز وہ پسماندہ کمیونٹیز اور دور افتادہ آبادی تھی جنہیں صحت کی سہولیات تک محدود رسائی حاصل ہے۔
امراض قلب، سینے اور دل کی جراحی، امراض تنفس، جنرل سرجری اور ہڈیوں کے امراض کے ماہرین نے جامع خدمات فراہم کیں، جن میں مشاورت، جسمانی معائنہ، تشخیص، ادویات کی رہنمائی اور بحالی کے مشورے شامل تھے۔
اس کلینک میں عام بیماریوں کے علاج، دائمی امراض کے انتظام اور صحت سے متعلق آگاہی پر بھی توجہ دی گئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تنزانیہ میں چین کی سفیر چھن منگ جیان نے پاک-چین دیرینہ دوستی پر روشنی ڈالی اور طبی ٹیم کی خدمات کو سراہا۔
چھن نے بتایا کہ اس ٹیم نے گزشتہ 2 سال میں تنزانیہ کے 10 ہزار سے زائد شہریوں کی خدمت کی ہے جو تنزانیہ کی صحت کی ترقی میں تعاون اور دوطرفہ اشتراک کو وسعت دینے کے چین کے عزم کا اعادہ ہے۔
روکوا کے ریجنل کمشنر ماکونگورو نیریرے نے اس اقدام پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے صحت کی فوری ضروریات کو پورا کرنے، مقامی خدمات کی صلاحیت بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد ملی ہے۔
چینی طبی ٹیم کے سربراہ ژانگ کائی نے کہا کہ یہ طبی کیمپ چین-تنزانیہ صحت کے تعاون کے معاہدوں پر عملدرآمد کی جاری کوششوں کی عکاس ہے اور انہوں نے اعلیٰ معیار کی طبی خدمات کی فراہمی اور مقامی کمیونٹیز کی فلاح و بہبود کے لئے مسلسل لگن کا عہد کیا۔


