ہومپاکستانکالعدم تنظیمیں خواتین کا استعمال کر کے معصوم جانوں سے کھیل، معاشرتی...

کالعدم تنظیمیں خواتین کا استعمال کر کے معصوم جانوں سے کھیل، معاشرتی اقدار، روایات نقصان پہنچا رہی ہیں، میر سرفراز بگٹی

وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیمیں خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کر کے معصوم جانوں سے کھیل رہی ہیں، حکومت خواتین کے تحفظ، عزت، باوقار مقام کے حصول کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی، کسی کو بھی استحصال یا غلط استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جمعرات کو ایکس پر جاری پیغام میں وزیراعلی بلوچستان نے گوادر میں اپنی نوعیت کے پہلے منفرد رمضان عید خواتین مینا بازار کے انعقاد کو خواتین کی سماجی و معاشی خودمختاری کے فروغ کی جانب تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔

وزیراعلی نے کہا کہ گوادر و گرد و نواح سے تعلق رکھنے والی مقامی خواتین، بچوں کی بھرپور شرکت اس بات کی غماز ہے کہ خواتین کو مثبت اور باوقار مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ معاشرے میں فعال اور موثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔

وزیراعلی نے کہا کہ ویمن مینا بازار جیسے اقدامات نہ صرف خواتین کیلئے تفریح کے مواقع فراہم کرتے ہیں بلکہ انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور مالی خودمختاری حاصل کرنے کا موثر پلیٹ فارم بھی مہیا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ خصوصی بازار حکومت کے اس غیر متزلزل عزم کے عکاس ہیں کہ خواتین کو بااختیار، ترقی کے مساوی مواقع فراہم کر کے معاشرے کا مضبوط و باوقار ستون بنایا جائے۔

وزیراعلی نے ڈپٹی کمشنر گوادر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین کیلئے صحت مند، مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کا فروغ خوش آئند اقدام ہے جو معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دے گا اور صوبے میں پائیدار سماجی ترقی کی بنیاد مضبوط کرے گا۔

وزیراعلی نے کہا کہ حکومت خواتین کے تحفظ، عزت اور باوقار مقام کے حصول کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، کسی کو بھی خواتین کے استحصال یا غلط استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیمیں بلوچستان کے پرامن، مہذب معاشرے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف اور خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کر کے معصوم جانوں سے کھیل، معاشرتی اقدار، روایات، وقار کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست ایسے عناصر کیخلاف پوری قوت کے ساتھ کارروائی جاری رکھے گی تاکہ خواتین کو محفوظ وباعزت ماحول فراہم ،معاشرے کو ناسور سے پاک کیا جا سکے ۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں