ہومانٹرنیشنلمشرق وسطیٰ کشیدگی عالمی توانائی سلامتی کیلئے براہِ راست خطرہ بن چکی،...

مشرق وسطیٰ کشیدگی عالمی توانائی سلامتی کیلئے براہِ راست خطرہ بن چکی، روس

روس نے ایران کے بوشہر جوہری بجلی گھر پر میزائل حملے کو غیر ذمہ دارانہ اور قطعی طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی اور عالمی برادری سے واقعہ کی فوری اور غیر مبہم مذمت کا مطالبہ کیا ہے، اپنے بیان میں وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے کہا کہ روس ایران سے متعلق جاری تنازع میں شامل تمام فریقین سے رابطے میں ہے اور مسلسل کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دے رہا ہے، آبنائے ہرمز میں نیویگیشن کے مسائل کا حل صرف مذاکرات کی میز پر ہی تلاش کیا جانا چاہئے، ماریہ نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی عالمی توانائی سلامتی کیلئے براہِ راست خطرہ بن چکی ہے جس کے باعث تیل و گیس کی عالمی منڈیاں شدید دبائو اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، اگر تیل کی ترسیل میں 30دن کی کمی واقع ہوتی ہے تو قیمتیں سال کے اختتام تک 76ڈالر فی بیرل تک مستحکم ہو سکتی ہیں جبکہ دو ماہ کی کمی کی صورت میں یہ 93ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں اور اگر تنازع مزید طول پکڑ گیا تو قیمتیں 150سے 200ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتی ہیں، ایران میں تیل کے ذخائر پر حملوں کے باعث ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے خاص طور پر دارالحکومت تہران کے اطراف اسکے منفی اثرات سامنے آئے ہیں جو پورے خطے کیلئے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔

روسی ترجمان نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے شہری اہداف کو نشانہ بنانے کی مذمت کی اور خبردار کیا کہ کسی بھی ممکنہ زمینی آپریشن سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

ماریہ زخارووا نے یوکرین تنازع کے حوالے سے الزام عائد کیا کہ یوکرینی افواج شہری تنصیبات پر حملوں میں اضافہ کر رہی ہیں اور ان کارروائیوں کی پشت پناہی وہی عناصر کر رہے ہیں جو مشرق وسطی میں بھی سرگرم ہیں، یوکرین تیزی سے عالمی اسلحہ تجارت کا ایک بڑا مرکز بنتا جا رہا ہے جو عالمی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔

انہوں نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے دعوئوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ میں جانی نقصان کے حوالے سے پیش کئے گئے اعداد و شمار حقیقت کے برعکس ہیں اور ان پر کوئی یقین نہیں کرتا۔

جنوبی کوریا کی جانب سے نیٹو کے تحت یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کے ممکنہ اقدام پر روس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے کسی بھی فیصلے کے روس، جنوبی کوریا تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔

ماریہ زخارووا نے مغربی ممالک کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپی بیوروکریسی نے روسی توانائی سے دستبرداری اختیار کر کے اپنے ہی شہریوں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے، روس کو سٹریٹجک شکست دینے کا یورپی تصور خود ناکامی سے دوچار ہو چکا ہے، انہوں نے ہنگری کی قیادت کی خارجہ پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ شدید دبائو کے باوجود اس نے متوازن موقف اختیار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے روسی ترجمان نے کہا کہ یہ بیانات ناصرف اقوام متحدہ کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے بلکہ عالمی ادارے کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جاپان کی جانب سے امریکی ٹوماہاک میزائل خریدنے کی صورت میں روس اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے کیلئے جوابی اقدامات کریگا۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ روس خطے اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والے چیلنجز کے باوجود سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کے لئے کوشاں رہے گا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں