ہومتازہ ترینچین کی زیرو ٹیرف پالیسی افریقہ کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے...

چین کی زیرو ٹیرف پالیسی افریقہ کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے گی، گنی بساؤ ماہر

بساؤ (شِنہوا) چین کا 53 افریقی ممالک کی مصنوعات پر محصولات ختم کرنے کا فیصلہ دوطرفہ تعلقات میں ایک ڈھانچہ جاتی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے اور اس سے جنوب-جنوب تعاون مزید مضبوط ہوگا۔

گنی بساؤ کے معاشی ماہر افونسو گومز نے حال ہی میں شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ چین کی یہ پالیسی کثیر جہتی نظام اور افریقہ کے ساتھ گہرے تعاون کے لئے اس کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

گومز نے کہا کہ چین نے بہت پہلے یہ سمجھ لیا تھا کہ عالمی معیشت کے مستقبل کے لئے کثیرجہتی تعاون ضروری ہے۔ اب کیا گیا یہ فیصلہ اس کے مضبوط درمیانی اور طویل مدتی تزویراتی وژن کی تصدیق کرتا ہے۔

گومز نے اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ اقدام افریقی ممالک کے لئے زیادہ تیار مصنوعات برآمد کرنے، مقامی روزگار پیدا کرنے اور ٹیکس آمدن بڑھانے کے نئے مواقع کھول سکتا ہے اور یہ کہ اس سے غربت میں کمی اور براعظم کی اقتصادی خودمختاری کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

گومز نے کہا کہ گنی بساؤ کی زیادہ تر برآمدات کاجو جیسی زرعی مصنوعات پر مبنی ہیں۔ گنی بساؤ کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تنوع لانا چاہیے اور مقامی سطح پر پروسیسنگ کو فروغ دینا چاہیے۔

علاقائی سطح پر گومز نے مغربی افریقی ریاستوں کی اقتصادی برادری اور چین کے درمیان مکالمے کے طریقہ کار کو مضبوط اور ادارہ جاتی بنانے پر زور دیا تاکہ معیارات کو ہم آہنگ کیا جا سکے اور تجارت کو آسان بنایا جا سکے۔

چین کی جانب سے زیرو ٹیرف سہولت کو "ایک بہترین موقع” قرار دیتے ہوئے گنی بساؤ کے ماہرنے کہا کہ افریقی ممالک کو اس پالیسی سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لئے ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور مضبوط صنعتی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں