فرینکفرٹ(شِنہوا) صنعتی ٹرک اور سپلائی چین سلوشنز فراہم کرنے والے معروف جرمن ادارے کیون گروپ کے سی ای او نے کہا ہے کہ چین کا کھلے پن کے عزم اور نئی معیاری پیداواری قوتوں کی ترقی کیون گروپ جیسی کثیرالقومی کمپنیوں کے لئے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔
کیون کے سی ای او روب سمتھ نے شِنہوا کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ چین کی طرف سے ماحول دوست ترقی پر مسلسل توجہ مرکوز کرنا ایک ایسا ماحول تخلیق کرے گا جہاں کیون جیسی بین الاقوامی کمپنیاں جدت لاسکتی ہیں، مقامی سطح پر خود کو ترقی دے سکتی ہیں اور اعلیٰ معیار کی پائیدار ترقی میں حصہ ڈال سکتی ہیں۔
1990 کی دہائی کے اوائل میں چینی مارکیٹ میں قدم رکھنے کے بعد کیون چین کے میٹریل ہینڈلنگ شعبے میں سب سے بڑی غیر ملکی کمپنیوں میں سے ایک بن گئی ہے۔ آج یہ کمپنی چین کو نہ صرف ایک اہم منڈی کے طور پر دیکھتی ہے بلکہ اسے ایک تزویراتی جدت کے شراکت دار کے طور پر بھی دیکھتی ہے۔
سمتھ نے مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ آف تھنگز اور روبوٹکس کے شعبوں میں چین کی تیز رفتار ترقی کو اجاگر کیا، جو اس کی وسیع صارف بنیاد اور مضبوط پیداواری و برآمدی صلاحیت کے ساتھ مل کر جدید سپلائی چین سلوشنز کی طلب کے بڑے محرکات ہیں۔


