واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے کے لئے ” تیار نہیں”۔ یہ تنازع اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ابھی وہاں سے نکلنے کے لئے تیار نہیں، لیکن ہم مستقبل قریب میں نکل جائیں گے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وائٹ ہاؤس کے پاس ایران کے ساتھ تنازع کے بعد کے دنوں کے لئے کوئی منصوبہ ہے، تو ٹرمپ نے کوئی تفصیل نہیں دی اور اپنا یہ دعویٰ دہراتے رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر حملوں کے آغاز کے بعد ایران "ہر لحاظ سے تباہ” ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی دوبارہ تعمیر میں ایک دہائی لگ سکتی ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر وہ امریکی زمینی فوجیں ایران بھیجتے ہیں تو انہیں اس بات کا خوف نہیں کہ یہ امریکہ کے لئے ایک اور ویتنام بن جائے گا۔
مقامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واشنگٹن ایران میں تیل کے اہم برآمدی مرکز خارگ جزیرے پر قبضہ کرنے اور اصفہان میں زیر زمین تنصیب کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بناتا ہے، جہاں جوہری مواد کا بڑا حصہ ذخیرہ ہونے کا خیال ہے تو اس کے لئے ممکنہ طور پر امریکی یا اسرائیلی زمینی کارروائیاں درکار ہوں گی۔


