ہنوئی (شِنہوا) چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ طاقت کی سیاست اور یکطرفہ دباؤ سے کسی کا دل نہیں جیتا جا سکتا اور اس کا کوئی مستقبل نہیں۔ انہوں نے ایشیا میں امن و استحکام کے تحفظ کے لئے کثیر جہتی لائحہ عمل کے اندر تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔
ویتنام کے اپنے دورے کے اختتام پر کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور وزیر خارجہ وانگ یی نے چینی ذرائع ابلاغ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایشیا میں طویل مدتی امن و استحکام آسانی سے حاصل نہیں ہوا اور تمام ممالک کو اس کی قدر کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت عالمی منظرنامہ گہری تبدیلیوں سے گزر رہا ہے، علاقائی تنازعات پھیل رہے ہیں اور سرحدوں سے باہر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں جبکہ بعض بڑی طاقتیں من مانے طریقے سے طاقت کا استعمال کر رہی ہیں جو عالمی امن و استحکام کے لئے سنگین خطرہ ہے۔
وانگ یی نے کہا کہ رواں سال چین-آسیان جامع تزویراتی شراکت داری کی پانچویں سالگرہ ہے جبکہ رواں سال اور آئندہ سال چین اور ویتنام ایشیا بحرالکاہل اقتصادی رہنماؤں کے اجلاس (اپیک) کی باری باری میزبانی کریں گے اور ویتنام لان کاںگ-می کانگ تعاون کا شریک چیئرمین بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین دنیا میں امن، استحکام اور انصاف کے لئے ایک اہم قوت ہے، وہ ویتنام اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اپیک، آسیان اور لان کاںگ-می کانگ تعاون جیسے کثیرجہتی فورمز کے اندر ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے تاکہ ایشیا کو ایک مشترکہ گھر کے طور پر محفوظ رکھا جا سکے، ایشیا پیسیفک برادری کی تعمیر کو آگے بڑھایا جا سکے اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کے قیام کے لئے مثال قائم کی جا سکے۔
اپنے دورہ ویتنام میں وانگ یی نے سفارتکاری، دفاع اور عوامی سلامتی سے متعلق چین-ویتنام "3+3” تزویراتی مکالمے کے پہلے وزارتی اجلاس میں شرکت کی اور چین-ویتنام دوطرفہ تعاون کی رہبر کمیٹی کے 17ویں اجلاس کی مشترکہ صدارت بھی کی۔


