لان ژو (شِنہوا) چینی سائنسدانوں نے گزشتہ ایک لاکھ 30 ہزار برسوں کے دوران ایشیا میں مختلف نوعیت کی موسمیاتی تبدیلیوں کے محرکات کا پتہ لگایا ہے، جس سے ایشیا میں دھول کے جمع ہونے، نمی کے ارتقا اور مختلف مکانی و زمانی پیمانوں پر کام کرنے والے عوامل کے مطالعے میں پیش رفت ہوئی ہے۔
لان ژو یونیورسٹی کے کالج آف ارتھ اینڈ انوائرمنٹل سائنسز کے پروفیسر لی گوچھیانگ نے شِنہوا کو بتایا کہ یہ تحقیق جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع ہوئی ہے اور مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں کے رجحانات کی پیش گوئی کے لئے طویل مدتی پیمانے پر ایک اہم معیار فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تحقیق ایشیا میں خشک سالی کے بڑھتے رجحان، بارش کے انداز میں تبدیلیوں اور عالمی حدت کے تناظر میں گرد و غبار کے خطرات کے تجزیے کے لئے بھی ایک مضبوط سائنسی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
ایشیا میں موسمیاتی تبدیلی پر کئی بڑے پیمانے کے گردشی نظام اثر انداز ہوتے ہیں، جن میں درمیانی عرض بلد کے مغربی مون سون، مشرقی اور جنوبی ایشیا کے گرمائی مون سون اور مشرقی ایشیا کے سردیوں کے مون سون شامل ہیں۔ ان نظاموں کی شدت اور کمی میں اتار چڑھاؤ اور باہمی تعامل نے خطے کے آبی و موسمیاتی نظام کو بہت متاثر کیا ہے اور انسانی زندگی اور سماجی ترقی پر دور رس اثرات مرتب کئے ہیں۔
لی کے مطابق ماضی میں مختلف موسمیاتی نظاموں کے ارتقائی عمل، ان کے محرکات اور ایشیا میں موسمیاتی تبدیلی کے جغرافیائی فرق پر ان کے اثرات کے حوالے سے خاصا اختلاف پایا جاتا تھا۔
ایشیا بھر میں مٹی اور گرد کی پرانی تہیں ماضی میں جمع ہونے والی گرد اور موسم کی تبدیلیوں کا اہم ریکارڈ ہیں جو مغربی ہواؤں اور ایشیائی مون سون کے اثر سے بنتی رہی ہیں۔ نئی پوٹاشیم فیلڈسپر انفراریڈ لومینیسنس ڈیٹنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے تحقیقاتی ٹیم نے وسطی ایشیا کے خشک علاقوں اور چھنگ ہائی-تبت سطح مرتفع میں 20 سے زائد مقامات پر ان تہوں کے لئے اعلیٰ درجہ کی زمانی ترتیب قائم کی۔
30 سے زائد ملکی اور غیر ملکی جامعات اور اداروں کے محققین کے تعاون سے ٹیم نے ایشیائی ذرخیز مٹی کی لومینیسنس ڈیٹنگ اور قدیم موسمیاتی اشاریوں پر مشتمل دنیا کے پہلے اعدادوشمار تیار کر کے جاری کئے جو براعظمی سطح پر جامع تحقیق کے لئے ایک اہم بنیاد فراہم کرتا ہے۔
تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ ایشیا میں گرد و غبار کا جمع ہونا صرف موسم سرما کی ہواؤں کی شدت میں تبدیلی کا نتیجہ نہیں ہے۔ مختلف علاقوں میں ذرخیز مٹی کے جمع ہونے پر متعدد عوامل مشترکہ طور پر اثر انداز ہوتے ہیں، جن میں مواد کی فراہمی، نباتاتی ڈھانپ، مقامی جغرافیائی ساخت، سمندر کی سطح میں اتار چڑھاؤ اور انسانی سرگرمیاں شامل ہیں۔
لی نے کہا کہ ہماری تحقیق نے پہلی بار براعظمی سطح پر گزشتہ ایک لاکھ 30ہزار برسوں کے دوران ایشیا میں گرد و غبار کے جمع ہونے اور نمی میں تبدیلیوں کی تاریخ کو جامع طور پر ازسرنو ترتیب دیا ہے۔ یہ مختلف زمانے کے پیمانوں پر ایشیا میں موسمیاتی تبدیلی کے عمل اور ان کے محرکات کو سمجھنے کے لئے نئی اہم شہادت فراہم کرتی ہے۔


