تہران (شِنہوا) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مغربی ایشیا میں امریکی فوجی اڈوں کے استعمال کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ یہ ایران کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے لئے نقصان دہ ہیں۔
انہوں نے یہ بات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں کہی، جس میں انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ پر ایران کے موقف کی وضاحت کی۔
پزشکیان نے کہا کہ ایران نے اس "ظالمانہ” جنگ کا آغاز نہیں کیا اور ملک کی حفاظت کرنا اور حملے کے خلاف دفاع کرنا اس کا بنیادی حق ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت جاری رہے گی، امن اور استحکام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکے گا۔
پزشکیان نے بین الاقوامی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس جارحیت کی مذمت کرے اور ملوث فریقوں کو بین الاقوامی قانون کی پابندی کرنے کی ترغیب دے۔
انہوں نے غلط معلومات اور توسیع پسندی کی بنیاد پر چلائی جانے والی جنگوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ 21 ویں صدی میں "قرون وسطیٰ” کی جنگوں کے مترادف ہیں۔ حملوں کو روکنے کے مطالبات اس وقت تک بے کار ہیں جب تک ایران پر مزید حملوں کے خلاف کوئی ضمانت نہ دی جائے۔


