ہومانٹرنیشنلایران تنازع میں براہ راست شامل نہیں ہونا چاہتے، یورپی ممالک

ایران تنازع میں براہ راست شامل نہیں ہونا چاہتے، یورپی ممالک

یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز میں فوجی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایران سے جاری تنازع میں براہ راست شامل نہیں ہونا چاہتے۔

یورپی یونین کے اجلاس کے موقع پر جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈیفل نے کہا کہ انکا ملک موجودہ تنازع میں کسی فوجی مشن میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا، امریکا اور اسرائیل کو اپنے اہداف اور حکمت عملی کے بارے میں اتحادیوں کو واضح معلومات فراہم کرنی چاہئیں۔

جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے بھی کہا کہ انکا ملک فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا تاہم وہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری گزرگاہ کو یقینی بنانے کیلئے سفارتی کوششوں کی حمایت کریگا۔

برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی واضح کیا کہ انکا ملک اس تنازع کو نیٹو مشن نہیں سمجھتا اور وہ وسیع جنگ میں شامل نہیں ہوگا البتہ اتحادیوں کیساتھ مختلف آپشنز پر بات چیت جاری ہے۔

دیگر یورپی ممالک جیسے نیدرلینڈز، یونان اور اٹلی نے بھی امریکی تجویز پر محتاط ردِعمل دیتے ہوئے فوری فوجی کارروائی کو مشکل قرار دیا ہے جبکہ پولینڈ نے کہاہے کہ اگر نیٹو کے ذریعے باقاعدہ درخواست آئی تو اس پر غور کیا جائیگا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں