سپریم کورٹ نے فیصل آباد میں 6 سالہ بچی فضاء نور کے اغواء، زیادتی و قتل میں مجرم عبدالرزاق کی سزائے موت کیخلاف اپیل خارج کردی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے 13 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ ملزم کی شناخت کیلئے گولڈ سٹینڈرڈ حیثیت رکھتا ہے، پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کی موت دم گھٹنے سے ہوئی، جبکہ میڈیکل معائنے میں زیادتی اور بدفعلی کی تصدیق بھی ہوئی۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بچی کے ناخنوں اور کپڑوں سے حاصل کیے گئے نمونوں کا ڈی این اے پروفائل مجرم عبدالرزاق سے مکمل طور پر میچ کر گیا، دورانِ تفتیش ملزم کی نشاندہی پر واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل اور بچی کی چپلیں بھی برآمد کی گئیں۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کم سن بچی کیساتھ درندگی اور قتل جیسے سنگین جرم میں کسی قسم کی نرمی معاشرے کیلئے خطرہ ہے، جبکہ سزائے موت کا مقصد معاشرے میں عبرت قائم کرنا ہے تاکہ ایسے جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔


