رواں برس چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (سال 2026 تا سال 2030) کا آغاز ہوا ہے جو سال 2035 تک بنیادی طور پر سوشلسٹ ماڈرنائزیشن کے ہدف کے حصول کی جانب ایک اہم مرحلہ تصور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیا منصوبہ نہ صرف چین کے لئے بلکہ عالمی شراکت داروں کے لئے بھی تازہ مواقع فراہم کرے گا جس کی ترجیحات میں ٹیکنالوجی میں جدت، ماحول دوست ترقی اور اعلیٰ سطحی اقتصادی کھلے پن کی پالیسی شامل ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): ہارلے سیدین، چیئرمین و صدر، امچیم ساؤتھ چائنہ
"نیا پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ یقیناً اعلیٰ ٹیکنالوجی، اختراع، اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی پر مرکوز ہوگانہ صرف چین بلکہ دنیا بھر میں متعارف کرایا جا سکتا ہے۔یہ امریکی کمپنیوں کو بھی موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ چینی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کریں، سرمایہ کاری کریں، تحقیق و ترقی کے مراکز بنائیں اور صارفین کے لیے تیار کی جانے والی مصنوعات پر توجہ مرکوز کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ چینی معیشت کے بڑھتے ہوئے کھلےپن سے فائدہ اٹھائیں جو ہمارے لیے بھی فائدہ مند ہے۔”
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): کیونس ادہیر، ماہر بین الاقوامی تعلقات، کینیا
"پانچ سالہ منصوبے چین کی معیشت کی ترقی کی بنیاد رہے ہیں جو دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور عالمی اقتصادی استحکام کی سب سے طاقتور محرک بھی۔ چین میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کے اثرات چین سے باہر بھی محسوس کئے جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اسی وجہ سے بہت سے ممالک خصوصاً افریقہ چین کو بتدریج ایک زیادہ اسٹریٹجک ترقیاتی شراکت دار کے طور پر دیکھ رہے ہیں کیونکہ چین کی ترقی نے افریقہ کی سماجی و معاشی تبدیلی پر مجموعی طور پر مثبت اثر ڈالا ہے۔ افریقہ کو امید ہے کہ چین کے ساتھ اس کے تعاون سے مزید اسٹریٹجک نتائج حاصل ہوں گے جو براہِ راست عوام کے لئے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔”
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): جیمز کونڈووا، سینئر صحافی، اخبار ’’دی گارڈئین‘‘، تنزانیہ
"مجھے اس میں معیار اور مضبوطی پر واضح توجہ نظر آتی ہے۔ عالمی معیشت میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور سپلائی چین میں بار بار آنے والی رکاوٹوں کے پیشِ نظر ایسا لگتا ہے کہ چین مضبوط صنعتوں، زیادہ مستحکم ٹیکنالوجی کی صلاحیت اور گھریلو کھپت و خدمات کے بہتر استعمال کو ترجیح دے رہا ہے۔ تنزانیہ کے نقطۂ نظر سے اس کے اثرات عملی ہو سکتے ہیں، مثلاً اعلیٰ معیار کی مصنوعات، زیادہ پختہ ڈیجیٹل حل، نسبتاً سستا صاف توانائی کا سازوسامان اور ممکنہ طور پر افریقہ کے ساتھ مزید سرمایہ کاری اور تعاون۔”
ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): شکیل رامے، چیف ایگزیکٹو، ایشین انسٹی ٹیوٹ آف ایکو سولائزیشن ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ، پاکستان
"چین اپنے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے تحت ماحول دوست ترقی کو فروغ دے رہا ہے۔ ماحول دوست ترقی میں چین نئی ٹیکنالوجی اور پیداوار کے نئے طریقے لائے گا۔ قابل تجدید توانائی سمیت دیگر جدتیں متعارف کرائے گا۔ اس طرح یہ ایک ایسا شعبہ ہوگا جس پر گہری نظر رکھی جا سکتی ہے اور اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔”
بیجنگ سےشِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن اسکرین:
چین کا 15واں پانچ سالہ منصوبہ 2026 سے شروع ہو گیا
منصوبے میں ٹیکنالوجی، جدت اور ماحول دوست ترقی کو نمایاں اہمیت دی گئی
امریکی کاروباری اداروں کو چین میں تعاون کے مواقع حاصل ہوں گے
سرمایہ کاری اور تحقیق و ترقی کے مراکز کے قیام کے مواقع بھی موجود ہوں گے
افریقی ممالک چین کو اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں
منصوبے کے اثرات عالمی اقتصادی استحکام پر بھی مرتب ہوں گے
تنزانیہ کے صارفین کے لئے ڈیجیٹل حل کا حصول ممکن ہوگا
منصوبے میں داخلی صارفیت اور خدمات کے بہتر استعمال پر زور دیا گیا
چین نئی پیداواری ٹیکنالوجی اور قابل تجدید توانائی متعارف کرائے گا
منصوبہ عالمی شراکت داری اور ماحول دوست ترقی کے مواقع بڑھائے گا


