بیجنگ (شِنہوا) چین نے 60 معیشتوں کے خلاف سیکشن 301 تحقیقات شروع کرنے کے امریکی فیصلے کی سخت مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی معاشی و تجارتی نظام کو شدید متاثر کر رہا ہے۔
چین کی وزارت تجارت نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ نے 12 مارچ کو مقامی وقت کے مطابق ایک تحقیق کا اعلان کیا، جس کا تعلق اس دعوے سے تھا کہ بعض ممالک نے "جبری مشقت” سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی لگانے میں ناکامی دکھائی، جبکہ ایک دن پہلے ہی سیکشن 301 کے تحت ایک اور تحقیق کا آغاز کیا گیا تھا جو بظاہر "زیادہ پیداواری صلاحیت” کے مسئلے سے متعلق تھی۔
بیان میں کہا گیا کہ چین نے فرانس کے شہر پیرس میں جاری دوطرفہ اقتصادی اور تجارتی مذاکرات میں اس معاملے پر امریکہ سے پہلے ہی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
بیان کے مطابق چین نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ اپنے غلط اقدامات کو درست کرے، چین کے ساتھ تعاون کرے، باہمی احترام اور مساوی مشاورت کے اصول پر کاربند رہے اور مسئلے کا مکالمے اور بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرے۔
وزارت کے ایک ترجمان نے امریکہ کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ طویل عرصے سے جبری مشقت کے معاملے کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال کر رہا ہے اور اس نے من گھڑت الزامات لگاکر چین پر متعددتجارتی پابندیاں عائد کی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ چین بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کا بانی رکن ہے، اس نے 28 بین الاقوامی لیبر کنونشنز کی توثیق کی ہے، چین نے جبری مشقت کی روک تھام اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے لیبر قوانین اور ضوابط کا ایک جامع نظام قائم کیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے ابھی تک 1930 کے "جبری مشقت کنونشن” کی توثیق نہیں کی، جس سے وہ عالمی سطح کے پابند اصولوں کو مسترد کر رہا ہے اور طویل عرصے سے "جبری مشقت” کے مسئلے کو اپنی من پسند تشریحات کے لئے استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین اور دیگر معیشتوں کے خلاف سیکشن 301 کی تحقیقات شروع کرنے کی امریکہ کی تازہ کارروائی یکطرفہ، من مانی اور امتیازی نوعیت کی ہے اور یہ تحفظ پسندی کی ایک واضح مثال ہے۔


