ہومانٹرنیشنلسرحدی کشیدگی کے باعث آبادکاری متاثر، واپس جانے والے افغان پناہ گزین...

سرحدی کشیدگی کے باعث آبادکاری متاثر، واپس جانے والے افغان پناہ گزین امن کے متلاشی

طورخم، افغانستان (شِنہوا) اپنی تباہ حال مٹی کی دکان کے سامنے کھڑے، اپنے مستقبل اور دکان کی بحالی کے بارے میں سوچتے ہوئے 28 سالہ زرداد نے غمزدہ لہجے میں کہا کہ اس تنازع کی آگ نے اس کی دکان میں موجود ہر چیز کو نگل لیا ہے جو اس کی آمدنی کا واحد ذریعہ تھی۔

زرداد جو ایک سابق پناہ گزین ہے اور چند سال قبل اپنے وطن افغانستان واپس آیا ہے، نے گاڑیوں کے سپیئر پارٹس فروخت کرنے کے لئے طورخم کراسنگ پوائنٹ پر ایک دکان قائم کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہائیوں قبل غیر ملکی جارحیت اور داخلی بے چینی نے ان کے خاندان کو ہجرت پر مجبور کیا تھا اور اب افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ان کی دکان تباہ کر دی۔

افغانستان کو پڑوسی ملک پاکستان سے جوڑنے والا طورخم، جو کبھی ایک مصروف سرحدی قصبہ ہوا کرتا تھا، سرحد پر جھڑپوں کے باعث گزشتہ 5 ماہ سے بند ہے۔

طورخم میں دکانداروں کی یونین کے سربراہ زر گل اتمانزئی، جو خود بھی حال ہی میں افغانستان میں دوبارہ آباد ہونے والے ایک سابق مہاجر ہیں، نے کہا کہ جنگ کا نتیجہ لوگوں کی بے گھرہونے کے سوا کچھ نہیں، عام شہری ہی جنگ کا شکار ہوتے ہیں۔

اتمانزئی کے مطابق اس سرحدی قصبے کی 3 مارکیٹوں میں تقریباً 30 کروڑ افغانی (تقریباً 48 لاکھ امریکی ڈالر) مالیت کی درجنوں دکانیں اور املاک تباہ ہو چکی ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں