ہومانٹرنیشنلٹرمپ نے ایران کی افزودہ یورینیم روس منتقل کرنے کی پوتن کی...

ٹرمپ نے ایران کی افزودہ یورینیم روس منتقل کرنے کی پوتن کی تجویز مسترد کردی

واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امریکی اور اسرائیلی تنازعہ ختم کرنے کے ممکنہ معاہدے کے حصے کے طور پر ایران کی افزودہ یورینیم روس منتقل کرنے کی روسی صدر ولادیمیر پوتن کی تجویز مسترد کردی ہے۔

آرلنگٹن، ورجینیا میں قائم نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کو ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ نے اس ہفتے کے شروع میں فون کال کے دوران پوتن کی یہ تجویز مسترد کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیر کے روز صدر ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فونک بات چیت کے دوران پوتن نے جنگ کے خاتمے کے لئے متعدد تجاویز پیش کیں جن میں یورینیم کی منتقلی کی تجویز بھی شامل تھی۔

ایک امریکی عہدیدار نے اس حوالے سے کہا کہ یہ تجویز اس سے پہلے بھی پیش کی جا چکی ہے۔ اس تجویز کو قبول نہیں کیا گیا ہے۔ امریکہ کا موقف یہ ہے کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ یورینیم محفوظ ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ایران یہ تجویز قبول کرے گا یا نہیں۔ جنگ سے قبل مذاکرات کے آخری دور میں ایران نے یورینیم کی منتقلی کی تجویز مسترد کردی تھی اور اس نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں اپنی تنصیبات کے اندر ہی افزودہ یورینیم کو کم افزودہ کرنے کی تجویز دی تھی۔

بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کی انتہائی افزودہ یورینیم کو محفوظ بنانے یا اسے ضبط کرنے کے لئے خصوصی آپریشنز فورسز ایران بھیجنے پر غور کر رہی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں