ترکیہ کی استنبول اوکان یونیورسٹی میں پیپر کٹنگ (کاغذ کاٹنے)کے روایتی فن نے ترکیہ اور چین کے طلبہ کے درمیان ثقافتی پل کا کا کردار ادا کیا ہے۔
یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے منعقدہ یہ سرگرمی ترکیہ کے نوجوانوں کے لئےچین کے غیر مادی ثقافتی ورثے کو زندہ کرنے کی ایک وسیع تر پہل کا حصہ ہے۔
طلبہ نے ہان سلطنت (202 قبل مسیح تا 220عیسوی) سے لے کر آج کے نئے چینی سال اور دیگر تہواروں تک کاغذ کاٹنے کے فن اور اس کے کردار کی ترقی کا جائزہ لیا۔
پریزنٹیشن کے بعد درجنوں ترک طلبہ نے پیچیدہ "فولڈ اینڈ کٹ” تکنیکیں سیکھیں اور سادہ سرخ کاغذ کو متوازن فن پاروں میں تبدیل کیا۔
ساؤنڈ بائٹ (انگریزی): ہُو وی، چینی ڈائریکٹر، کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ، استنبول اوکان یونیورسٹی
"ہم نے آج کی پیپر کٹنگ کی سرگرمی اس لئے منعقد کی تاکہ طلبہ جان سکیں کہ اس روایت میں اتنے اہم پیٹرنز، شکلیں اور تصاویر کیوں ہیں، ان کے بہترین معانی کیا ہیں اور لوگ یہ کام کس طرح انجام دیتے ہیں۔”
ساؤنڈ بائٹ (ترک): ایلائل ساکال،ترک طالبہ
"اس سرگرمی کے دوران ہم نے سیکھا کہ مختلف جانور ترکیہ اور چین دونوں کی ثقافتوں میں کیا معنی رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمیں معلوم ہوا کہ مچھلی فراوانی کی علامت ہے اور اسی طرح ڈریگن اور خرگوش کے بھی الگ الگ معنی ہیں۔”
استنبول، ترکیہ سےشِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
استنبول اوکان یونیورسٹی میں چینی کاغذ کاٹنے کی ورکشاپ منعقد ہوئی
ورکشاپ کا اہتمام یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ نے کیا
یہ سرگرمی ترکیہ اور چین کے طلبہ میں ثقافتی تعلق مضبوط کرتی ہے
چینی طلبہ نے کاغذ کاٹنے کی تاریخ ہان سلطنت سے دکھائی
طلبہ نے ریڈ پیپر پر فولڈ اور کٹ کی تکنیک سیکھی
ہر طالبعلم نے کاغذ کے ذریعے خوبصورت اور متوازن فن پارہ بنایا
ورکشاپ کے دوران جانوروں کے مختلف ثقافتی معانی بیان کئے گئے
مچھلی کا نشان فراوانی اور خوشحالی کو ظاہر کرتا ہے
ڈریگن اور خرگوش دونوں کے مختلف اور خاص ثقافتی معنی ہوتے ہیں
اس سرگرمی نے چینی غیر مادی ثقافتی ورثے کو نوجوانوں تک پہنچایا


