لندن (شِنہوا) چینی مصنف شو ژی یوآن نے 2026 کے لندن کتب میلے کے دوران ایک نشست میں کہا کہ سفر صرف جگہ کے درمیان حرکت نہیں بلکہ دنیا کو سمجھنے کا ایک طریقہ بھی ہے۔
یہ میلہ منگل سے جمعرات تک لندن میں منعقد ہوا، جس میں دنیا بھر کے ناشر، مصنفین اور صنعت کے ماہرین نے شرکت کی۔
اس موقع پر شو نے برطانوی مترجم نکی ہارمین کے ساتھ سفر اور تحریر، تاریخی تجربات اور ادبی اظہار پر گفتگو کی۔
"تاریخ اور سفر، چین سے نئی تحریر” کے عنوان سے منعقدہ نشست میں شو نے کہا کہ دنیا کے کئی حصوں میں سفر پر تحریر طویل عرصے سے یورپی اور امریکی مصنفین کے زیر اثر رہی ہے جبکہ چینی مصنفین کے نظریات نسبتاً محدود رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب چین کے مختلف حصوں کے نوجوان دنیا میں نکلتے ہیں تو وہ اپنے تجربات کو ساتھ لے کر ان اجنبی مقامات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی عمل نئی کہانیاں پیدا کرتا ہے۔
شو نے کہا کہ جب وہ معروف چینی مفکر اور اصلاح پسند لیانگ چھی چھاؤ (1873-1929) پر تحقیق کر رہے تھے تو انہیں محسوس ہوا کہ کئی اہم خیالات اور ادبی تخلیقات بین الثقافتی سفر کے تجربات سے جنم لیتی ہیں۔
شو نے کہا کہ لیانگ نے بیسویں صدی کے آغاز میں مشرقی ایشیا سے یورپ اور شمالی امریکہ تک وسیع پیمانے پر سفر کیا اور ان تجربات نے ان کے فکر اور تحریر پر گہرا اثر ڈالا ۔
اس نشست میں اشاعت اور مواد کی صنعت میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اہمیت پر بھی بات کی گئی جو اس سال کے میلے کے متعدد فورمز اور تقریبات میں نمایاں موضوع رہی۔
شو نے کہا کہ ادب ہمیشہ نئی ٹیکنالوجیز کے جواب میں تبدیل ہوتا رہا ہے۔ طباعت کی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ سے لے کر جدید اشاعت کے عروج تک معلومات کی ہر بڑی تبدیلی نے لوگوں کے لکھنے اور پڑھنے کے طریقوں کو بدل دیا ہے۔
اس نشست کا اہتمام ون وے سٹریٹ فاؤنڈیشن نے کیا، جس نے 2025 کے فرینکفرٹ کتب میلہ میں اپنا سیلر پروگرام متعارف کرایا تھا۔ 2018 سے یہ پروگرام نوجوان چینی مصنفین کو مختلف ممالک اور علاقوں میں سفر کرنے، تخلیقی منصوبے کرنے اور رہائش اختیار کرنے میں مدد دیتا ہے اور ان کے نتائج کتابوں، نمائشوں اور عوامی تقریبات کے ذریعے پیش کئے جاتے ہیں۔


