اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر پیش کی گئی روس کی جنگ بندی قرارداد امریکا کے ویٹو کے باعث منظور نہ ہو سکی۔
قرارداد کے حق میں چار ارکان نے ووٹ دیا جبکہ دونے مخالفت کی اور نو ارکان ووٹنگ کے وقت غیر حاضر رہے۔
روس کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں خطے میں فوری جنگ بندی اور ایران پر ہونیوالے حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا تاہم امریکا کے ویٹو کے باعث یہ قرارداد منظور نہ ہو سکی۔
ادھر سلامتی کونسل نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کیخلاف ایک الگ قرار داد منظور کر لی ہے۔
خلیجی ریاستوں کی طرف سے تیار مسودے کے حق میں 13ارکان نے ووٹ دیا جبکہ چین اور روس ووٹنگ کے دوران شریک نہیں ہوئے، پاکستان نے بھی اس قرارداد کی حمایت کی۔
قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک پر حملے فوری طور پر بند کرے، ایسے اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور عالمی امن و سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں روسی مندوب نے خطاب کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ خطے میں کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کئے، کسی بھی ملک کی شہری آبادی کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور ایران پر حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔


