ہومانٹرنیشنلجنگ جیت چکے ہیں، ایران سے فوری نکلنے کا ارادہ نہیں، صدر...

جنگ جیت چکے ہیں، ایران سے فوری نکلنے کا ارادہ نہیں، صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں کارروائیاں اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک تمام اہداف مکمل نہیں ہو جاتے۔

کینٹکی میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعوی کیا کہ امریکا نے ایران کیخلاف جنگ میں فیصلہ کن برتری حاصل کر لی ہے، امریکی فوج کے ایران پر شدید حملے جاری ہیں، آپریشن ایپک فیوری کے آغاز کے پہلے ہی گھنٹے میں جنگ کا رخ تبدیل ہو گیا تھا، امریکی کارروائیوں میں ایران کے 58جہاز تباہ کئے گئے جبکہ بارودی سرنگیں بچھانے والی 31کشتیوں کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے، امریکی افواج نے ایک ہی رات میں آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کر دیا اور ایرانی بحریہ کو سمندر میں موثر انداز میں ناکارہ بنا دیا، ایران ایئر فورس مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور اسکے ریڈار سسٹمز تباہ کر دئیے گئے ہیں، امریکی کارروائیوں کے بعد ایرانی ڈرون حملوں میں 98فیصد کمی آ گئی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ایران کی جوہری صلاحیت کو بھی صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے، امریکا اس جنگ میں کامیابی حاصل کر چکا ہے مگر فوری طور پر ایران سے نکلنے کا ارادہ نہیں کیونکہ واشنگٹن نہیں چاہتا ہر چند سال بعد دوبارہ وہاں مداخلت کرنا پڑے۔

ٹرمپ نے سابق امریکی صدر براک اوباما کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر اوباما دور میں ایران کیساتھ جوہری معاہدہ ختم نہ کیا جاتا تو موجودہ صورتحال پیدا نہ ہوتی، ریلی کے دوران ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا جب ٹرمپ کے پیچھے کھڑا ایک سپورٹر اچانک بیہوش ہو گیا، امریکی صدر نے فوری طور پر اپنا خطاب روک دیا اور طبی عملے کو بلانے کی ہدایت کی۔

ٹرمپ نے اپنی تقریر میں امریکی معیشت کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 11ماہ میں امریکا میں 18ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری آئی جبکہ جو بائیڈن کے چار سالہ دور میں صرف ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی تھی، 2021کے صدارتی انتخاب کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر دھاندلی الزامات دہر اتے ہوئے کہا کہ اسکے باوجود انہوں نے ریکارڈ ووٹ حاصل کئے تھے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں