ہومپاکستانافغانستان سے متعلق موجودہ پالیسی برقرار رکھی جائیگی، دفتر خارجہ

افغانستان سے متعلق موجودہ پالیسی برقرار رکھی جائیگی، دفتر خارجہ

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا، ایران پر حملوں کی شدید مذمت کی اور فریقین سے تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم کا دورہ سعودی عرب دوطرفہ قریبی مشاورت، خطے میں امن و سلامتی سے متعلق امور پر رابطوں کا حصہ ہے، پاکستان مذاکرات و سفارتکاری کیلئے کوششیں جاری رکھے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ایرانی صدر سے تعزیت کا اظہار کیا اور مجتبی خامنہ ای کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد بھی دی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایران کے سعودی عرب، بحرین، اردن، کویت، قطر، یو اے ای اور آذربائیجان پر حملوں کی بھی شدید مذمت کی اور ان ممالک سے یکجہتی کا اظہار کیا، یو این چارٹر، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور بحران کے حل کیلئے مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے۔

انہوں نے یو اے ای میں جاں بحق پاکستانی شہریوں پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستانی سفارتی مشن نے پاکستانیوں کی میتوں کی وطن واپسی کیلئے متاثرہ خاندانوں سے تعاون کیا ہے۔

خطے کے مختلف ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کی مدد کیلئے وزارت خارجہ میں کرائسز مینجمنٹ یونٹ 24گھنٹے فعال ہے۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا پاکستان نے واضح کیا کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہئے، افغانستان سے قابل تصدیق یقین دہانیوں کا مطالبہ کیا گیا تاہم مطلوبہ یقین دہانیاں موصول نہیں ہوئیں اسلئے پاکستان افغانستان سے متعلق اپنی موجودہ پالیسی برقرار رکھے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کے تیل بردار جہازوں سے متعلق معاملات ایران اور متعلقہ حکومتوں کے درمیان ہیں، پاکستان کا اس پر کوئی مخصوص موقف نہیں، ایران اور بھارت کے درمیان پیش آنیوالے معاملات پر پاکستان براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا، امریکا کے ساتھ سفارتی سطح پر رابطے مسلسل جاری ہیں۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانہ اور اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ باہمی رابطے میں ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں