ہومتازہ ترینفوجیان کے "مِن دریا" سے ہوبارٹ تک خاتون کپتان کی نئی زندگی...

فوجیان کے "مِن دریا” سے ہوبارٹ تک خاتون کپتان کی نئی زندگی کا سفر

60 سالہ لِن جیانگ ہوئی نے اپنا بچپن چین کے مشرقی صوبہ فوجیان میں "مِن دریا” کے کنارے گزارا۔

کئی دہائیوں بعد، دو افراد کے عملے والی یاٹ ‘مِن ریور’ کی قیادت کرتے ہوئے، لِن نے فرانس کے اپنے ساتھی الیکسی لواسن کے ساتھ سمندری کشتیوں کی دوڑ "سڈنی ہوبارٹ یاٹ ریس” میں فتح حاصل کی۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): لِن جیانگ ہوئی، یاٹ کی کپتان

"مِن دریا وہ دریا رہا ہے جس پر میرے خاندان کی کئی نسلوں سے گزربسر رہی ہے۔ اس پر پروان چڑھتے ہوئے میرا دریا کی کشتیوں سے گہرا جذباتی تعلق قائم ہو گیا۔ اسے ‘مِن دریا’ نام دینا میرے آباؤ اجداد کی عزت کرنے اور اپنی آبائی وطن کو یاد رکھنے کا طریقہ ہے۔ آخرکار میں چین سے ہوں اور اس دریا کا پانی اس وقت سے پیتی آ رہی ہوں جب میں بچی تھی۔ اس نام سے بہتر کوئی اور نام نہیں ہو سکتا۔”

لِن نے 47 سال کی عمر میں سمندر سے وابستہ ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے آسٹریلیا میں ایک یاٹ کلب کی تقریب میں سیلنگ کی تربیت کے لئے اپنا نام رجسٹرڈ کروایا۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): لِن جیانگ ہوئی، یاٹ کی کپتان

"چالیس سال کی عمر کے بعد میں خود کو زیادہ آزاد اور زیادہ پختہ محسوس کرتی ہوں۔ اور میری بیٹی بھی بالکل مناسب وقت پر بڑی ہو گئی۔ یوں میں نے اپنی زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ چالیس کی دہائی کی زندگی میرے لئے زیادہ پسندیدہ ہے۔”

اگرچہ آغاز دیر سے ہوا لیکن لِن نے تاریخ رقم کر دی اور سمندری کشتیوں کی دوڑ کی 80 سالہ تاریخ میں وہ مقابلہ جیتنے والی پہلی خاتون کپتان بن گئیں۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): لِن جیانگ ہوئی، یاٹ کی کپتان

"میرا یقین ہے کہ انسان کو ہمت ہارے بغیر اپنے آپ پر اعتماد اور بھروسہ رکھنا چاہئے۔ اس وقت چیمپئن شپ جیتنا بہت بڑی بات تھی کیونکہ اس مقابلے کو پورے آسٹریلیا میں بڑے پیمانے پر دیکھا جاتا ہے۔ میرے لئے ابتدا میں یہ فتح بس ایک اور ریس جیتنے جیسی تھی لیکن ایک دو دن بعد مجھے آہستہ آہستہ اس کی خاص اہمیت کا احساس ہوا۔ دو افراد پر مشتمل عملے کے ساتھ یہ ریس جیتنا ایک ایسا اعزاز تھا جو پہلی بار حاصل کیا گیا۔ تاریخ میں اس سے پہلے کسی خاتون کپتان نے یہ ریس نہیں جیتی تھی۔”

اس 60 سالہ فاتح کپتان نے اُن مشکلات کا بھی ذکر کیا جن پر وہ قابو پانے میں کامیاب رہیں۔ انہوں نے دیگر خواتین کو بھی اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے کی ترغیب دی۔

ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): لِن جیانگ ہوئی، یاٹ کی کپتان

"میں یقیناً اُن سے (خواتین سے) کہوں گی کہ صرف اپنی عمر کی وجہ سے ہمت نہ ہاریں۔ اس کے برعکس یقین کریں آپ عمر کے کسی بھی حصے میں زندگی کا نیا باب شروع کر سکتی ہیں۔ آپ کو واقعی اپنی قدر کرنی چاہئے۔ میں جوان نہیں ہوں اور میں قد و قامت میں بھی بڑی نہیں ہوں۔ انگریزی میری مادری زبان نہیں ہے۔ میں نے یہ کھیل بچپن سے شروع نہیں کیا تھا۔ میں ایک عورت ہوں۔ لہٰذا اگر میں یہ کر سکتی ہوں تو میرا یقین ہے کہ دوسری خواتین بھی ضرور ایسا کر سکتی ہیں۔”

سڈنی سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسٹ آن سکرین:

لِن جیانگ ہوئی کی "سڈنی ہوبارٹ یاٹ ریس” میں شاندار فتح

سمندری کشتیوں کی ریس جیتنے والی پہلی خاتون کپتان بن گئیں

بچپن چین کے مشرقی صوبہ فوجیان میں "مِن دریا” کے کنارے گزارا

لِن نے 47 سال کی عمر میں سیلنگ کا آغاز کیا تھا

چالیس سال کی عمر کے بعد لِن نے زندگی کا نیا باب شروع کیا

محنت اور حوصلے نے انہیں تاریخی فتح تک پہنچایا

لِن نے دیگر خواتین کو مقصد کے حصول کے لئے محنت کی ترغیب دی

عمر کبھی بھی کسی بڑے مقصد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی

فرانس کے الیکسی لواسن اس کامیابی میں ان کے شراکت دار رہے

لِن کی یہ کامیابی خواتین کے لئے مثال ہے

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں