چین غیر ملکی کاروباری اداروں کے لئے بدستور سرمایہ کاری کا اہم مرکز ہے۔عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے باوجود زیادہ کمپنیاں چینی منڈی میں اپنی سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ بات چین کے جنوبی علاقے میں قائم امریکن چیمبر آف کامرس کی منگل کو جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔
امچیم ساؤتھ چائنہ کی جانب سے چین کے جنوبی علاقے میں کاروباری صورتحال کے بارے میں شائع کی گئی سال 2026 کی خصوصی رپورٹ کے مطابق سروے میں شامل 95 فیصد کمپنیوں نے چین میں اپنی کاروباری سرگرمیاں برقرار رکھنے کے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 45 فیصد کمپنیوں نے چین کو اپنی سرمایہ کاری کی اولین ترجیح قرار دیا، جو کہ 2024 کے مقابلے میں 6 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق 45 فیصد کمپنیوں نے چین کو اپنی سرمایہ کاری کی اولین ترجیح قرار دیا جو سال 2024 کے مقابلے میں 6 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سروے میں شامل 75 فیصد کمپنیاں سال 2026 میں چین میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
چین اب بھی بہت سی کمپنیوں کے لئے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ سال 2025 میں سروے میں شامل 37 فیصد کمپنیوں نے بتایا کہ ان کی عالمی آمدنی کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ چینی منڈی سے حاصل ہوا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ رپورٹ کے مطابق 91 فیصد امریکی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ تجارتی کشیدگی کے براہِ راست نتیجے کے طور پر چین سے کاروباری تعلقات منقطع نہیں کریں گی۔
تازہ ترین سروے میں مجموعی طور پر 426 کمپنیوں نے حصہ لیا جن میں سے زیادہ تر کا تعلق امریکہ، چین اور یورپ سے تھا۔ ان میں سے نصف سے زیادہ کمپنیاں مکمل طور پر غیر ملکی ملکیت والی جبکہ 32 فیصد امریکی سرمایہ کاری والی کمپنیاں ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ (انگریزی): ہارلے سیدین، چیئرمین اور صدر، امچیم ساؤتھ چائنہ
"میں یقین رکھتا ہوں کہ امریکی کمپنیاں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کر رہی ہیں۔ ہم صارفین کے شعبے میں بہت فعال ہیں۔ہم اعلیٰ ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی بہت فعال ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہماری سرمایہ کاری ہمارے کمپنیوں کی ہر شعبے اور ہر صلاحیت کے لحاظ سے جاری رہے گی۔”
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین اعلیٰ معیار کے کھلے پن کی پالیسی کو فروغ دینے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں کو رسد کے نظام، منڈی اور جدت کے فوائد سے بہتر طور فائدہ اٹھانے کی سہولت دینے کے لئے چینی حکومت نے جامع اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدامات عالمی کمپنیوں کے لئے طویل مدتی مستحکم سرمایہ کاری کا ماحول تخلیق کرنے کے لئے ڈیزائن کئے گئے ہیں۔ چین نے اپنی پیداواری صنعت میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے منڈی تک رسائی پر عائد تمام پابندیاں ختم کر دی ہیں۔
ملک کی اعلیٰ مقننہ کو پیش کی گئی ایک سرکاری ورک رپورٹ کے مطابق رواں برس غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے ادارہ جاتی ڈھانچے میں اصلاحات کا عمل مزید گہرا کیا جائے گا۔ اس سے منڈی تک رسائی بڑھے گی اور مختلف میدانوں خاص طور پر خدمات کے شعبے میں بیرونی دنیا کے لئے مزید دروازے کھلیں گے۔
سرکاری اعداد و شمار سے بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔ سال 2025 میں چین میں غیر ملکی سرمایہ کاری والی نئی کمپنیوں کی مجموعی تعداد 70392 رہی جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 19.1 فیصد زیادہ ہے۔
گوانگ ژو، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
چین غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے پُرکشش منڈی بن گیا
امریکن چیمبر آف کامرس کی رپورٹ میں 426 کمپنیوں نے رائے ظاہر کر دی
سروے میں شامل 95 فیصد کمپنیوں کا چین میں کاروبار جاری رکھنے کا عزم
45 فیصد کمپنیاں چین کو سرمایہ کاری کے لئےاولین ترجیح قرار دیتی ہیں
75 فیصد کمپنیوں نےرواں برس دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ کیاہے
چینی منڈی کئی عالمی کمپنیوں کے لئے آمدنی کا ذریعہ بنی
سال 2025 میں 37 فیصد کمپنیوں کی عالمی آمدنی کا بڑا حصہ چین سے حاصل ہوا
91 فیصد امریکی کمپنیاں چین سے کاروباری تعلق منقطع نہیں کرنا چاہتیں
چین غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے مزید کھلی اور مستحکم منڈی بنا رہا
گزشتہ برس 70 ہزار سے زائد نئی غیر ملکی کمپنیاں چین آئی تھیں


