حکومت پنجاب نے عوام کی سیلابی تباہ کاریوں سے مستقل حفاظت کیلئے تجاوزات ختم، پنجاب میں 17 مقامات پر منی ڈیم بنانے، آبی ذخائر کی استعداد بڑھانے فیصلہ کرلیا جبکہ وزیراعلی مریم نواز نے دریائی گزرگاہوں میں تعمیرات کی پابندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ دریا کے پیٹ میں تعمیرات کا باب ہمیشہ کیلئے بند کیا جا رہا ہے۔
جمعہ کو وزیراعلی مریم نواز کی زیر صدارت پوسٹ فلڈ انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں متعلقہ محکموں کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ 563کلومیٹر طویل 186روڈز، 446 پلیاں اور ایک پل بحال کر دیا گیا، رواں سال بھی 28فیصد تک زائد بارشوں کی پیشگوئی کی جارہی ہے۔
اجلاس میں سیلابی تباہی کی جڑ کو ختم کرنے کیلئے 3ماہ کے اندر تمام تجاوزات ختم کرکے فلڈ زونز کو واگزار کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں پنجاب میں 17مقامات پر منی ڈیم بنانے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا ہے، چنیوٹ میں بند بنانے کیلئے فیزیبلٹی رپورٹ مکمل کر لی گئی جس کی اصولی منظوری بھی دیدی گئی ہے۔
وزیراعلی نے انفلیٹ ایبل ڈیم ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں کالا باغ اور سد ھنائی کے مقامات پر آبی ذخائرکی استعداد بڑھانے جبکہ پی ڈی ایم اے کی ری سٹرکچرنگ اور 8نئے ونگ بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعلی نے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر، ریجنل ڈیزاسٹر اور ویئر ہائوس قائم کرنے، ریسکیو 1122کو فلڈ آپریشن کیلئے جدید ترین آلات مہیا کرنے کی بھی منظوری دے دی۔
وزیراعلی نے دریا کی گزرگاہوں میں تعمیرات کی پابندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے سدباب کیلئے مستقل مانیٹرنگ کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ دریا کے پیٹ میں تعمیرات کا باب ہمیشہ کیلئے بند کیا جا رہا ہے۔


