بدھ, جنوری 14, 2026
ہومانٹرنیشنلافغانستان، طالبان حکومت کے تحت آزادی صحافت کی صورتحال خراب

افغانستان، طالبان حکومت کے تحت آزادی صحافت کی صورتحال خراب

افغانستان میں طالبان حکومت کے تحت دیگر شعبوں میں ابتری کے ساتھ ساتھ آزادی صحافت کی صورتحال بھی مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق طالبان نے صوبہ قندوز سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی نذیرہ رشیدی کو گرفتار کر لیا ہے جس پر صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

افغان میڈیا سپورٹ آرگنائزیشن نے تصدیق کی ہے کہ نذیرہ رشیدی کو منگل 6 جنوری کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، اہلخانہ کا کہنا ہے کہ صحافی گزشتہ چار دنوں سے طالبان کی تحویل میں ہیں تاہم انکے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔

افغان میڈیا پروٹیکشن آرگنائزیشن کے مطابق نذیرہ رشیدی کو کسی قانونی جواز کے بغیر گرفتار کیا گیا ہے، تنظیم نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ خاتون صحافی کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اور گرفتاری کی وجوہات واضح کی جائیں۔

رپورٹس کے مطابق طالبان حکومت کے تحت خواتین صحافیوں کو شدید پابندیوں، دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا ہے، 93فیصد خواتین صحافی خوف اور دبائو کے ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہیں جبکہ 55 فیصد خواتین صحافیوں کو براہِ راست دھمکیوں کا سامنا رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 32 فیصد سے زائد افغان خواتین صحافی سکیورٹی خدشات اور پابندیوں کے باعث خفیہ طور پر آن لائن یا پرنٹ میڈیا میں کام کر رہی ہیں۔

بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ودآٹ بارڈرز پہلے ہی افغانستان میں آزادی صحافت کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکی ہے، آر ایس ایف کی رپورٹ کے مطابق 2025میں افغانستان آزادی صحافت کے عالمی انڈیکس میں 180ممالک میں سے 175ویں نمبر پر آ چکا ہے، 2024کے دوران افغانستان میں 12میڈیا ادارے بند ہوئے جبکہ خواتین صحافیوں کی 80فیصد نوکریاں ختم ہو گئیں۔

صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کی سخت پالیسیوں اور عالمی برادری کی خاموشی کے باعث افغانستان میں آزادی اظہار اور آزاد صحافت شدید خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں

error: Content is protected !!