سرائیوو (شِنہوا) بوسنیا و ہرزیگووینا (بی آئی ایچ) اور چین کے درمیان بغیر ویزا نظام نے تجارت، معیشت، تعلیمی شعبے اور سیاحت میں عوامی سطح پر روابط کو نمایاں طور پر فروغ دیا ہے اور ساتھ ہی دو طرفہ عملی تعاون کو بھی مضبوط بنایا ہے۔ یہ بات بوسنیا و ہرزیگووینا میں غیر ملکی افراد کے امور کے ادارے کے ڈائریکٹر ژارکو لکیتا نے شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
لکیتا نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں بوسنیا و ہرزیگووینا آنے والے چینی سیاحوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ملک کے سیاحتی شعبے کو مضبوط سہارا ملا ہے۔ بوسنیا و ہرزیگووینا کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے پہلے دس مہینوں میں چینی سیاحوں کی آمد کی تعداد سال 2024 کے مجموعی اعداد و شمار سے کہیں زیادہ رہی۔
انہوں نے کہا کہ بغیر ویزا پالیسی کے نفاذ سے قبل چین کو بوسنیا و ہرزیگووینا میں اکثر ایک نسبتاً دور ملک سمجھا جاتا تھا تاہم برسوں سے بغیر ویزا آمد و رفت اور دو طرفہ تعلقات کی مسلسل ترقی کے بعد چین بالخصوص تجارت اور تعلیمی تبادلوں کے حوالے سے زیادہ قابل رسائی ملک بن گیا ہے۔
چین اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے درمیان عام پاسپورٹ رکھنے والوں کے لئے باہمی بغیر ویزا نظام مئی 2018 میں نافذ ہوا۔
لکیتا کے مطابق سفر، کام، تعلیم اور تبادلوں کے ذریعے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ اور احترام میں اضافہ ہوا ہے، جس سے نہ صرف دو طرفہ تعلقات مضبوط ہوئے ہیں بلکہ دونوں قوموں کے درمیان دوستی کے پل بھی قائم ہوئے ہیں۔
انہوں نے اعلیٰ سطح کی وسعت کو فروغ دینے کے لئے چین کی مسلسل کوششوں کو سراہا، جن میں بغیر ویزا انتظامات کی توسیع اور چین بین الاقوامی درآمدات نمائش کے انعقاد جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات دنیا کے لئے مثبت پیغامات ہیں اور عالمی اقتصادی و تجارتی تعاون کے مزید مواقع پیدا کریں گے۔


