چین کے مشرقی صوبہ فوجیان کے ضلع چانگ ٹنگ میں اتوار کے روز امریکہ اور چین کے نوجوانوں کے درمیان ثقافتی تبادلے اور تاریخی شعور کے فروغ کے لئے ایک سرمائی کیمپ کا آغاز ہوا ہے۔
امریکی وفد میں فلائنگ ٹائیگرز کے ایک سابق فوجی کے وارث جیفری گرین سمیت متعدد امریکی طلبہ شامل تھے۔
جاپانی جارحیت کے خلاف مزاحمتی جنگ کے دوران چانگ ٹنگ نے ایک اہم اسٹریٹجک کردار ادا کیا تھا۔
سال 1945 میں امریکہ کی چودھویں فضائیہ نے اس کاؤنٹی میں اپنا دفتر قائم کیا۔ فلائنگ ٹائیگرز کے 100 سے زائد افراد پر مشتمل زمینی عملہ اور فضائی اہلکار یہاں تعینات تھے۔
چانگ ٹنگ نمبر 1 مڈل اسکول کے دورے کے دوران امریکی طلبہ نے اپنے چینی ہم جماعتوں کے ساتھ شجرکاری اور کھیلوں کے مقابلوں جیسی مختلف مشترکہ سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): جیفری گرین، چیئرمین، سائنو امریکن ایوی ایشن ہیریٹیج فاؤنڈیشن
"چانگ ٹنگ (نمبر 1 مڈل اسکول) ہمارے فلائنگ ٹائیگرز فرینڈشپ اسکول پروگرام میں شامل ہونے والے پہلے اسکولوں میں سے ایک تھا۔ پچھلے چند برسوں میں ہم یہاں کئی تقریبات میں شریک ہو چکے ہیں۔ یہ ہمارے طلبہ کو چین دیکھنے، چین کے بارے میں سیکھنے، دوسری عالمی جنگ اور فلائنگ ٹائیگرز کی تاریخ کے بارے میں جاننے اور چین کی تاریخ کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ امریکی طلبہ کو ایسا تجربہ حاصل ہوا جسے وہ کبھی نہیں بھولیں گے اور میرے خیال میں چینی طلبہ کے لئے بھی یہ ایک ناقابل فراموش تجربہ ہے۔انہیں عوامی سطح کے رابطوں کی بنیاد پر ایک دوسرے سے ملاقات کرنے کا موقع ملا جو لوگوں سے ملاقات کا بہترین طریقہ ہے۔”
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): سیورِن وِٹل، طالبعلم، برکیلے ہائی اسکول
” چین کا یہ سارا سفر چین کی تاریخ کے گرد گھومتا ہے ۔ یہ تاریخ خاص طور پر دوسری عالمی جنگ میں فلائنگ ٹائیگرز کے کردار کے حوالے سے ہے۔ اس لئے ہم نے اس بارے میں بھی تھوڑی سی بات کی۔ اس کے علاوہ ہم نے اپنے مختلف مشاغل بھی ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کئے۔ اگر میں امریکہ واپس جاؤں تو میں وہاں بھی فلائنگ ٹائیگرز اور دوسری جنگ عظیم کی تاریخ ضرور بیان کروں گا۔میں واقعی اس بات کا خیرمقدم کروں گا اگر چینی طلبہ بھی امریکہ آ ئیں، وہاں کا تجربہ حاصل کریں اور ایک مضبوط تعلق قائم کریں۔ چینی محاورے ‘زونگ گوؤ می گوؤ یو یی وان سوئی‘ کا مطلب ہے کہ چین اور امریکہ کی دوستی دس ہزار سال تک قائم رہے۔”
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): جان لاؤ، طالبعلم، برکیلےہائی اسکول
"میرے خیال میں ہم میں سے بہت سے لوگ صرف مشترکہ مشاغل اور کھیلوں کے ذریعے ہی جڑ گئے۔ یہاں چین میں ایسا لگتا ہے کہ اسکول میں ایک زبردست جوش و خروش ہے اور واقعی ہر کوئی یہاں آ کر خوش ہے۔ میرے خیال میں طلبہ کی کمیونٹی واقعی ایک دوسرے کے بہت قریب ہے۔”
چانگ ٹنگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
چین کےمشرقی صوبے میں چینی و امریکی نوجوانوں کے لئےسرمائی کیمپ شروع
کیمپ کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور تاریخی شعور فروغ دینا ہے
امریکی وفد میں فلائنگ ٹائیگرز کے سابق فوجی کے وارث بھی شامل
چانگ ٹنگ نے دوسری عالمی جنگ میں اہم اسٹریٹجک کردار ادا کیا
امریکی طلبہ نے چینی ہم جماعتوں کے ساتھ کھیلوں اور شجرکاری میں حصہ لیا
کیمپ طلبہ کو عوامی سطح پر دوستانہ تعلقات بنانے کا موقع دیتا ہے
جیفری گرین نے کیمپ کو طلبہ کے لئے ناقابل فراموش تجربہ قرار دیا
سیورِن وِٹل کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے مشاغل اور تاریخ شیئر کیں
چینی محاورے میں دس ہزار سال تک چین امریکہ دوستی کی خواہش کی گئی ہے
جان لاؤ طلبہ میں باہمی قربتوں اور تعاون سے بہت متاثر ہوئے


