رواں برس چین کی معیشت نے مضبوط لچک کا مظاہرہ کیا اور چیلنجز پر قابو پاتے ہوئے کھپت بڑھانے والی میکرو اکنامک پالیسیوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا۔
جی ڈی پی کی شرحِ نمو درست سمت میں گامزن:
سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں چین کی مجموعی قومی پیداوار میں 5.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو ظاہر کرتا ہے کہ چین تقریباً 5 فیصد کے اپنے سالانہ ترقیاتی ہدف کے حصول کی راہ پر ٹھیک طریقے سے گامزن ہے
توقع ہے کہ رواں برس چین کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) 1400 کھرب یوآن (تقریباً 198.7 کھرب امریکی ڈالر) تک پہنچ جائے گی۔
تجارتی سرگرمیوں میں مستحکم اضافہ:
سال 2025 کے پہلے 11 ماہ میں چین کی مجموعی درآمدات اور برآمدات 3.6 فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھیں جس میں غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کا حصہ تقریباً 30 فیصد رہا۔
چین مسلسل 16 برسوں سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ ملک ہے۔
کھپت میں بہتری:
چین میں صارفین کے استعمال کی اشیاء کی خوردہ فروخت رواں برس 500 کھرب یوآن سے تجاوز کرنے کی توقع ہے جو رواں برس کے ابتدائی 11 ماہ میں پہلے ہی 4 فیصد سالانہ بڑھ چکی ہے۔
خدمات کے شعبے میں صارفین کی خریداری اور بھی تیز رفتار رہی جس میں ثقافت، کھیل، ٹیلی کام اور معلوماتی خدمات جیسے شعبوں میں دوہرے ہندسوں کی شرح سے فروخت میں اضافہ ہوا۔
نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں، سمارٹ ڈیوائسز اور ثقافتی سیاحت کی طلب میں بھی تیزی دیکھی گئی۔
اختراعی قوت کا عالمی مراکز:
دانشورانہ ملکیت کے عالمی ادارے (ڈبلیو آئی پی او) کے مطابق چین سال 2025 کی عالمی اختراعی درجہ بندی میں ایک درجہ ترقی کر کے دسویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔
چین مسلسل تین سال سے دنیا کے صف اول کے 100 سائنسی و تکنیکی اختراعی مراکز کی میزبانی کر رہا ہے جن میں 24 مراکز سال 2025 میں عالمی فہرست میں شامل ہوئے ہیں۔
چین کی کاروباری کمپنیوں کی آمدنی بڑھنے میں اختراع کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
اعلیٰ ٹیکنالوجی کی صنعت میں تیز رفتار اضافہ:
جنوری سے نومبر 2025 کے عرصے میں چین کی ہائی ٹیک صنعت کی ویلیو ایڈیڈ پیداوار 9.2 فیصد بڑھ گئی جبکہ ڈیجیٹل مصنوعات کی پیداوار میں 9.3 فیصد اضافہ ہوا۔
اسی عرصے میں صنعتی روبوٹس اور مربوط سرکٹس کی پیداوار میں بالترتیب 29.2 فیصد اور 10.6 فیصد کا اضافہ ہوا۔
بیجنگ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
سال 2025 میں چین کی معیشت نے استحکام اور ترقی کا سفر جاری رکھا
پہلی تین سہ ماہیوں میں جی ڈی پی میں 5.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا
چین تقریباً 5 فیصد کے سالانہ ترقیاتی ہدف کی جانب کامیابی سے بڑھ رہا ہے
مجموعی قومی پیداوار رواں برس 1400 کھرب یوآن تک پہنچنے کی توقع
درآمدات اور برآمدات میں 3.6 فیصد کا سالانہ اضافہ ہوا
غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں نے 30 فیصد حصہ ڈالا
چین مسلسل 16 برس سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ ملک ہے
صارفین کی اشیاء کی خوردہ فروخت رواں برس 500 کھرب یوآن سے تجاوز کر گئی
ہائی ٹیک صنعت کی پیداوار 9.2 فیصد اور ڈیجیٹل مصنوعات 9.3 فیصد بڑھ گئیں
صنعتی روبوٹس اور مربوط سرکٹس کی پیداوار میں بالترتیب 29.2 اور 10.6 فیصد اضافہ ہوا


