بیجنگ(شِنہوا) 15 جولائی کو چینی صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ کے قلب میں واقع عظیم عوامی ہال کے شاندار فوجیان ہال میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اعلیٰ سفارتکاروں اور مستقل اداروں کے سربراہان کا خیرمقدم کیا۔
شی نے اجلاس میں زور دیا کہ چین نے ہمیشہ اپنی ہمسایہ سفارت کاری میں شنگھائی تعاون تنظیم کو ترجیح دی ہے اور اس تنظیم کو مزید مضبوط اور موثر بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔ یہ وعدہ چین کی دیرینہ کوششوں کا تسلسل ہے جس کا مقصد ایس سی او کے پلیٹ فارم پر ایک پرامن اور ترقی یافتہ ہمسائیگی کو فروغ دینا ہے۔
شی جن پھنگ نے جون میں قازقستان کے دارالحکومت آستانہ کے اپنے حالیہ دورے میں چین کی ہمسائیگی کی پالیسی کی وضاحت کی۔ اس دوستی کی بنیاد دوستی، خلوص، باہمی فائدے اور شمولیت جیسے اصولوں پر ہے۔ اس پالیسی میں ایک خوشحال، محفوظ اور ہم آہنگ ہمسائیگی کا مضبوط عزم بھی شامل ہے۔
آنے والے دنوں میں شی جن پھنگ شمالی بندرگاہی شہر تیانجن میں اس سال کے ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی کریں گے جہاں تنظیم کے دیگر رہنما خطے میں سلامتی اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لئے حکمت عملی مرتب کریں گے اور مشترکہ مستقبل کے حامل قریبی ایس سی او معاشرے کی تشکیل کی سمت عملی اقدامات اٹھائیں گے۔
شی نے اس سال ابھی تک 3 غیر ملکی دورے کئے۔ ان میں 2 دورے روس اور قازقستان کے تھے۔ یہ دونوں ممالک ایس سی او کے رکن ہیں۔
جون میں دوسرے چین۔ وسطی ایشیا سربراہ اجلاس میں شرکت کے لئے آستانہ ایئرپورٹ پہنچنے پر شی کے دیرینہ دوست قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ یہ صدر بننے کے بعد شی کا اس پڑوسی ملک کا چھٹا دورہ تھا۔
